حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں نمائندہ ولی فقیہ حجت الاسلام والمسلمین محامی نے حوزہ علمیہ امام جعفر صادق (ع) زاہدان کے طلاب اور علماء کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اعیادِ شعبانیہ اور دہۂ مبارکۂ فجر کے آغاز کی مبارک باد پیش کی اور کہا: انقلاب اسلامی کی کامیابی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول ایک انفجارِ نور تھی۔
انہوں نے پہلوی دور میں معاشرے پر مسلط سیکیورٹی فضا اور گھٹن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: پہلوی دور میں گرفتاریاں، تشدد اور عمومی خوف غالب تھا۔ لوگ شدید خوفزدہ رہتے تھے اور مجھے یاد ہے کہ میرے مرحوم والد جو میرے مرحوم چچا کی طرح کوئی نمایاں انقلابی شخصیت نہیں تھے بلکہ ایک عام فرد سمجھے جاتے تھے ایک انتخاب کے موقع پر مسجد میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابات رسمی نوعیت کے ہیں اور ان کی بات کا مفہوم یہی تھا۔ اس کے بعد کچھ عرصے تک مسجد ویران ہو گئی اور لوگ آنا چھوڑ گئے کیونکہ انہیں خوف تھا کہ امام جماعت نے ایسی بات کہی ہے اور کہیں اس کا نتیجہ ان کے لیے مسئلہ نہ بن جائے۔
حجت الاسلام والمسلمین محامی نے حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے معجزہ نما کردار پر زور دیتے ہوئے کہا: یہ تبدیلی خود ایک معجزہ تھی۔ وہ لوگ جو پہلے خوف کے باعث مسجد میں حاضر بھی نہیں ہوتے تھے۔ حضرت امام کے مسیحائی کردار اور ان کی تقاریر بیانات اور اعلامیوں کے ذریعے اجتماعی تحریکوں میں شامل ہو گئے اور مشہد کی ریلیوں میں یہاں تک کہ جب براہِ راست گولیاں چلائی جاتی تھیں اور نوجوان شہید ہو کر گر جاتے تھے، لوگ شہداء کے جنازے اٹھا کر جلوس کو جاری رکھتے تھے اور یہ تبدیلی بذاتِ خود ایک معجزہ سے کم نہیں تھی۔
زاہدان کے امام جمعہ نے حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ پر عوام کے گہرے ایمان اور بصیرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: لوگ انہیں ایک مرجعِ تقلید، ایک عظیم عالم اور ایک رہبر کے طور پر مانتے تھے اور جو بھی امام کے مقابل آتا تھا بلا تردد عوام کی طرف سے مسترد کر دیا جاتا تھا اور انقلاب اسلامی کی تاریخ گواہ ہے کہ حتیٰ وہ افراد بھی جو مرجعیت کا عنوان رکھتے تھے اگر امام کے ساتھ نہ ہوتے تو عوام بلا جھجھک انہیں کنارے لگا دیتے تھے۔
حجت الاسلام محامی نے ایران میں گذشتہ واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: رہبر معظم کی رہبری کے 30 سال سے زائد عرصے کے دوران انقلاب کو بے شمار فتنوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن رہبرِ انقلاب کی حکیمانہ قیادت نے ملک کو فتنوں سے محفوظ رکھا۔









آپ کا تبصرہ